اقبال ایک نظر میں
ہم سب جانتے ہیں ۹؍نومبر بیسویں صدی کے عظیم المرتبت مفکر، مایۂ ناز فلسفی اور شاعر حکیم الامت، شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال کا یوم ولادت ہے۔ اس دن اردو داں طبقے میں بطور خاص انھیں یاد کیا جاتا ہے، اور ان کے عظیم الشان کارناموں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ آج کا دن عالمی سطح پر یوم اردو کے طور بھی منایا جاتا ہے، کیوںکہ علامہ اقبال نے اپنی لازوال اور بے مثال شاعری کے ذریعے دنیائے اردو میں ایسا انقلاب برپا کیاجس نے پیکر اردو کو نئی زندگی، نیا حسن، نئی توانائی عطا کی، جس کے لیے ہم تمام محبان اردوعلامہ کے مرہون منت ہیں۔ آج کا دن بطور خاص علامہ اقبال کی شاعری اور ان کے فکر و فن پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ اردو کے تعلق سے ہم اہل اردو کے خود احتسابی کا بھی دن ہے کہ اردو سے محبت کے اپنے دعوے میں ہم کتنے صادق ہیں۔
۹؍نومبر کو یوم اردو منانے کا آغاز ’’اردو ڈیویلپمنٹ آرگنائیزیشن‘‘ نامی ایک نجی غیر سرکاری تنظیم نے کیا۔ بعد ازاں ایک اور نجی تنظیم ’’یونائیٹیڈ مسلم آف انڈیا‘‘ نے بھی ان سے اشتراک کرتے ہوئے۱۹۹۷ سے یوم اردو منانے کا جو سلسلہ شروع کیا وہ آج بھی پورے شد ومد کے ساتھ جاری ہے۔ وہ ننھا سا چراغ جو ہندوستان میں روشن ہوا تھا اس کی روشنی نے آج پوری دنیا کو منور کر دیا۔ آج پوری دنیا میں جہاں جہاں اردو والے موجود ہیں یوم اردو پوری شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
علامہ اقبال ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمداور والدہ کا نام امام بی تھا۔ اقبال کے جد اعلیٰ کشمیر کے سپرو برہمن تھے جواقبال کی پیدائش سے تقریباً دو۔ڈھائی سو سال قبل ایک سید بزرگ کے اخلاق حسنہ سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے اور ترک وطن کرکے سیالکوٹ میں سکونت اختیار کی۔ اقبال کا گھرانا ایک دیندار گھرانا تھا، ان کے والد بیٹے کے لیے محض دینی تعلیم ہی کافی سمجھتے تھے لیکن اقبالؔ کے استاد معروف عالم دین سید میر حسن نے انھیں سمجھایا کہ اپنے بیٹے کو محض دینی تعلیم تک محدود نہ رکھیں اس کے لیے جدید تعلیم بھی بہت ضروری ہے۔ ان کے اصرار پر والد نے انھیں سید میر حسن کے سپرد کر دیا۔ وہ اقبال کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ اقبالؔ کی شخصیت کی مجموعی تشکیل میں جو عناصر بنیادی طور پر کارفرما نظر آتے ہیں ان میں بیشتر شاہ صاحب کی تعلیم اور فیضان صحبت کا نتیجہ ہے۔ سید میر حسن سر سید کے بڑے مداح تھے اور ان کے خیال میں علی گڑھ تحریک مسلمانوں کے لیے انتہائی مفید تھی۔ لہٰذا اقبالؔ کے دل میں سر سید کے لیے محبت و احترام پیدا ہونا فطری بات تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت سر سید کی علی گڑھ تحریک کی مخالفت عروج پر تھی اقبال نے اس سے متاثر ہونے کے باوجود سر سید کے جدید افکاروخیالات کا ہمدردانہ نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا۔ سر سید نے عقل اور سائنس کے معیاروں پر جس جدید علم کی بنیاد رکھی تھی اقبالؔ نے بھی اس کی اہمیت کو قبول کیا لیکن انھوں نے اسلامی روایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان تعلیمات کی وکالت کی۔ انھوں دینی مسائل کا جدید افکار کی روشنی میں حل تلاش کرنے کی حمایت کی۔
مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ تو خیر اقبالؔ کو وراثت میں ملا تھا مگر میر حسن کی تربیت نے نہ صرف اس جذبے کو اور صیقل کیا بلکہ اسے علمی اور عملی سمت بھی عطا کی۔ اقبالؔ نے اسکاچ مشن اسکول سے ۱۸۹۳ میں ہائی اسکول اور ایف۔ اے۔(انٹرمیڈیٹ) کا امتحان ۱۸۹۵ میں فرسٹ ڈویویژن میں پاس کیا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب اقبال کی شاعری کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ اس وقت پورے بر صغیر میں داغؔ کی شاعری کا ڈنکا بج رہا تھا۔ اقبال نے داغ کی شاگردی کی درخواست لکھ بھیجی جو قبول ہو گئی، مگر اصلاح کا یہ سلسلہ زیادہ دن تک جاری نہ رہ سکا۔ داغؔ نے انھیں یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ ان کے کلام میں اصلاح کی گنجائش نہیں ہے۔
مزید تعلیم کے لیے اقبال نے لاہور کے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ۱۸۹۸ء میں انھوں نے بی ۔ اے۔ پاس کیا۔ ۱۸۹۹ء میں فسلفہ میں ایم۔ اے۔ کیا اور پورے پنجاب میں اول آئے۔ اس دوران شاعری کا سلسلہ بھی چلتا رہا، لیکن ان کی شاعرانہ سرگرمیاں دوستوں کے حلقے تک محدود تھیں۔ بقول مولانا عبدالمجید سالکؔ:
’’ان کا کمرہ دوستوں کے جمگھٹوں اور شعر کوانیوں کا مرکز بنا رہتا تھا… اقبال عام طور پر لاہور کے مشاعروں میں نہ جاتے تھے لیکن دفعہ ان کے ہم جماعت انھیں کھینچ کر ایک مشاعرے میں لے گئے، جس میں شہزادہ مرزا ارشد گورگانی بھی موجود تھے۔ اقبال نے جب اپنی غزل میں یہ شعر پڑھا:
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے تھے جو مرے عرق انفعال کے
تو مرزا اچھل پڑے اور دل کھول کر داد دی۔‘‘ (عبدالمجید سالکؔ : ذکر ِاقبال ص ۱۸۔۱۷)
یہیں سے اقبالؔ کی شہرت لاہور میں اور پھر پورے ملک میں پھیل گئی۔
ایم۔ اے۔ پاس کرنے کے بعد ۱۳؍مئی ۱۸۹۹ کو اورینٹل کالج لاہور میں بطور عربک ریڈر اقبال کی تقرری ہوئی۔ اسی سال پروفیسر آرنلڈ بھی عارضی طور پو بطور قائم مقام پرنسپل مقرر ہوئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اقبالؔ آرنلڈ کے بہت قریب ہو گئے۔ ۲۵؍دسمبر ۱۹۰۵ کواقبالؔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ ۴نومبر ۱۹۰۷ کو میونخ یونیورسٹی نے انھیں تحقیقی مقالہ ’’ایران میں ما بعدالطبیعات کا ارتقاء‘‘ پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی۔ ۱۹۰۸ میں انھوں نے لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا ۔
فکر اقبالؔ کو مشرق و مغرب کی کئی شخصیہات نے متاثر کیا لیکن بقول اسلم جیراجپوری:
’’اقبال نے اپنے پیام کا سرچشمہ رسولؐ کی ذات کو بنایا۔ رسول اکرم ﷺ کی عزت و توقیر اقبالؔ صرف اس لیے نہیں کرتے کہ وہ مسلمانوں کے پیغمبر ہیںبلکہ انھیں رسولؐ کی شخصیت سے والہانہ عشق اس لیے بھی ہے کہ وہ رسولؐ کی ذات میں ایک کامل انسان جلوہ گر پاتے ہیں۔‘‘
بالفاظ دیگر علامہ اقبال کی فکر کا اصل مآخذ اللہ کا کلام اور رسولؐ کی سیرت مبارکہ ہیں۔مشرق کی جن شخصیات نے علامہ کی فکر کو متاثر کیا ان میں سری کرشن، وشوامتر، سوامی رام تیرتھ، بھرتری ہری، آدی شنکراچاریہ، منصور حلاج، حافظ شیرازی، مولانا روم، نظیری، فارابی، بوعلی سینا، ابن عربی، حکیم سنائی، مجدد الف ثانی، امام غزالی، نظام الدین اولیا، غالب، بیدل اور سر سید احمد خاں وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان سب میں ایک صوفی مفکر یعنی جلال الدین رومی اور مجدد الف ثانی کے نام سے مشہور شیخ احمد سرہندی سے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اقبالؔ نے اپنے فکروفن کے ارتقائی مراحل ان ہی بزرگوں کی تعلیمات کی روشنی میں طے کیے۔ بالخصوص ان کا تصور عشق، فلسفۂ خودی و بے خودی اور افکار ملی ان ہی برگزیدہ ہستیوں کا مرہون منت ہیں۔
مغربی مفکرین میں اقبال گوئٹے سے بہت متاثر تھے کیونکہ گوئٹے اسلام اور رسول اکرمؐ کا عقیدت مند تھااور مشرق سے روحانیت، پاکیزگی اور امن و آشتی مستعار لینے کی تلقین کرتا ہے۔ دوسرے مغربی مفکرین کے برعکس اقبال اور فرانسیسی مفکر برگساں کے افکار و خیالات میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے بالخصوص وجدان اور تصور زماں کے ضمن میں۔
جرمن مفکر نیتشے سے اقبالؔ بہت قریب ہیں۔ نیتشے موت کو کمزوروں کا مقدر کہتا ہے، اسے اقبال یوں کہتے ہیں:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
جہد مسلسل کو نیتشے کے نظام فکر میں مرکزیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک بھی زندگی حرکت و عمل سے عبارت ہے۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
اور یہ کہ:
پختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگی
ہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگی
بقول خلیفہ عبدالحکیم:
’’اقبال کے یہاں رومی بھی ہیں نیتشے بھی، کانٹ بھی ہیں برگساں بھی، کارل مارکس بھی ہیں اور لینن بھی، بیدل بھی ہیں غالب بھی، لیکن اقبال کے اندر ان سب کی حیثیت جوں کی توں باقی نہیں رہی، اس نے اپنے تصورات کا قالین بنتے ہوئے کچھ رنگین دھاگے اور خاکے ان لوگوں سے لیے ہیں، لیکن اس کے مکمل قالین کا نقشہ کسی دوسرے قالین کے نقشے کی ہو بہو نقل نہیں ہے۔‘‘
کارہائے نمایاں:
علم الاقتصاد
فارس میں ماوراء الطبیعات کا ارتقاء
تجدید فکریات اسلام
اسرار خودی
رموز بے خودی
پیام مشرق
بانگ درا
زبور عجم
جاوید نامہ
بال جبریل
ضرب کلیم
ارمغان حجاز
شعبۂ اردو الہ آباد ڈگری کالج
الہ آباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں