کب ترے درد سے دل یہ بے کل نہ تھا (غزل)

کب ترے درد سے دل یہ بے کل نہ تھا 
ایسی کوئی بھی ساعت کوئی پل نہ تھا
 

ہم نشیں جس جگہ قتل میرا ہوا
 آشیاں تھا مرا کوئی مقتل نہ تھا

 اس کی الفت نے یہ معجزہ کر دیا
 دل کسی کے لیے اتنا پاگل نہ تھا

 عمر بھر پاؤں میں آبلے ہی رہے
 زندگی میں کہیں فرش مخمل نہ تھا

 خون انصاف کا ہو رہا چار سو
 سلسلہ جبر کا یوں مسلسل نہ تھا

 ہر نفس یاد اس کی ستاتی رہی
ہجر کا فیصلہ بھی مکمل نہ تھا

 تیری شرم و حیا تیری پہچان ہے
 شاماؔ ماتھے پہ کیوں تیرا آنچل نہ تھا

تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا