فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پریم چند

آج ہمارا ملک معاشی، معاشرتی، مذہبی اور سیاسی غرض ہر سطح پر بحران کا شکار ہے۔ ملک کا نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہے، کسان خودکشی کر رہے ہیں، سرکاری کمپنیاں بند ہو رہی ہیں، دفتروں میں بدعنوانی کا بول بالا ہے، عورتوں کی عصمت دری، اغواء اور قتل اب معمول کی باتیں بن گئی ہیں۔ مذہب کے نام پر لوٹ کھسوٹ اور استحصال اپنی پرانی روش پر قائم پر ہے، ملک میں گو کہ جمہوریت نافذ ہے اور عوام کو اپنی پسند کی حکومت بنانے کا حق حاصل ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عوام ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں اور وہ جاہ و حشم اور دولت کے لالچ میں ان کے ووٹوں کا سودا کر بیٹھتے ہیں۔اس غیر یقینی اور تباہ کن صورت حال سے دوچار عوام الناس ایک ہیجان اور ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ گویا ہم سماج کے جس پہلو پر نظر ڈالتے ہیں وہ انتشار کا شکار نظر آتا ہے۔ اگر سچے دل اور ایمان داری سے کوشش کی جائے تو ان تمام مسائل کا حل نکالنا ممکن ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں صدیوں سے فرقہ واریت کا جو زہر سرایت کر گیا ہے کہ اس کا تدارک ممکن نظر نہیں آتا۔ ہندو مسلم تنازعے کا خاتمہ اور دونوںفرقوں میں باہمی اتحاد آج جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس کے پس پردہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں کے فارمولے پر عمل پیرا برسر اقتدار طبقہ جو کہ حکومت چلانے میں پوری طرح ناکام ہے اور اسے ڈر ہے کہ کہیں عوام اسے اقتدار سے بے دخل نہ کر دیں لہٰذا اپنی حکومت کے استحکام کے لیے سب سے آزمودہ نسخے کو بروئے کار لاتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے ملک کی دو بڑی طاقتوں کو آپس میں لڑوانے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھ رہا ہے۔ 

آج ملک کی سب سے بڑی ضرورت فرقہ وارانہ اتحاد اور باہمی بھائی چارہ ہے۔ غلام ہندوستان میں جس وقت پریم چند نے قلم اٹھایا اس وقت بھی کچھ ایسے ہی حالات تھے۔ فرق ہے تو صرف اتنا کی اس وقت ملک کی آزادی کا مسئلہ درپیش تھا اور آج ہمارے ملک کی بقااور سا  لمیت کا سوال ہے۔ حق پرست ادباء ، دانشور، صحافی و سماجی کارکنان اس وقت بھی مقہور تھے اور آج بھی معتوب ہیں۔ پریم چند ایک سچے محب وطن تھے، وطن کی غلامی ان پر بہت گراں گزرتی تھی اور وہ کسی بھی قیمت پر غیر ملکی اقتدار سے آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انھیں ہر قسم کی غلامی سے نفرت تھی خواہ وہ ذہنی ہو یا جسمانی، فرسودہ روایات، لایعنی رسم و رواج کی قید ہو یا پھر ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی کی زنجیریں، کیوں کہ یہ وہ گھُن ہیں جو انسانی معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ ان کے نتیجے میں انسان کی زندگی آلام و مصائب کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ عوام کو ان پریشانیوں سے نجات دلانے کے لئے پریم چند کا درد مند دل ملک کی آزادی کے لئے بے قرار تھا۔ دوسری جانب حکومت برطانیہ ملک پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا تھی۔ پریم چند نہ صرف یہ کہ انگریز حکومت کی اس حکمت عملی سے بخوبی واقف تھے بلکہ انگریزوں کے نمک خوار ہندوستانی جاگیرداروں، فرقہ پرست لیڈروں اور نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں سے بھی نالاں تھے جو ہندو مسلم اتحاد کے لئے خطرہ بنے ہوئے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کسی بھی قیمت پر قائم رکھنا چاہتے تھے۔پریم چند قلم کی طاقت سے بخوبی واقف تھے اور ایک جانباز سپاہی کی طرح اپنے اسی ہتھیار کے ساتھ تا دم آخرلڑتے رہے، اور ملک کی آزادی اور عوام کی بہبودی کے لئے کوشاں رہے۔ انھوں نے اس بات کو بڑی شدت سے محسوس کیا کہ ملک سے غلامی کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے ملک کی دو بڑی طاقتوں ہندو ؤں اور مسلمانوں کا باہمی اتحاد ناگزیر ہے۔ اس اعلیٰ مقصد کی تکمیل کے لئے انھوں نے پوری زندگی وقف کر دی۔ اپنے تخلیقی سفر میں انھیں دشوار گزار مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ ابتدائی دور میں ان کی قلم حکومت کے عتاب کا شکار ہوئی۔ آگے چل کرا نھیں اپنے ہم وطنوں کی مخالفت جھیلنی پڑی۔ اپنی پہلی ہی تحریر اسرار معابد میں انھوں نے پنڈے پجاریوں اور مہنتوں کی کالی کرتوتوں کا جس بے باکی سے پردہ فاش کیامذہبی بالا دستی والے سماج میں یہ کام آسان نہ تھا۔ اس کے لئے ان پر خوب تنقید کی گئی، طرح طرح کے الزامات عائد کیے گئے، لیکن حق بیانی سے ان کے قلم کو کوئی باز نہ رکھ سکا۔

وہ عوام میں خصوصاً ہندو اور مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق، رواداری اور محبت کو قائم کرنے کے لئے اپنی قلم کے ذریعے تحریک دلاتے رہے۔ اپنے متعدد مضامین، افسانوں اور ناولوں میں قومی یکجہتی کے جذبات کو فروغ دینے اور ملک کو فرقہ وارانہ منافرت سے محفوظ رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔ اس سلسلے میں مانک ٹالا کا قول ملاحظہ ہو:

’’پریم چند نے ہندو مسلم اتحاد کو اپنی زندگی کا ایک اعلیٰ و ارفع نصب العین بنا لیا تھا کیونکہ ان کا یہ ایمان تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جب تک اخلاص، محبت اور بھائی چارے کا رشتہ قائم نہیں ہوتا، ملک آزاد نہیں ہوگا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے وہ ہندو اور مسلمان دونوں کے فرقہ پرست حلقوں سے جوجھتے رہے۔‘‘  ۱؎

پریم چند آریہ سماج سے متاثر تھے اور اس کے رکن رہ چکے تھے لیکن رفتہ رفتہ ان کے فکر و شعور میں بالیدگی آتی گئی اور وہ بولشیوازم کے قائل ہوتے چلے گئے۔بقول پروفیسر علی احمد فاطمی:

’’…جیسے جیسے وہ اپنا تخلیقی اور ذہنی سفر طے کرتے گئے ان کا تصور اشتراکیت واضح اور پختہ ہوتا گیا اور وہ باقاعدہ ان ناپسندیدہ تخریبی عناصر کے خلاف جم کر لکھتے ہی گئے۔ وہ ناول نگار اور افسانہ نگار تو تھے ہی انھوں نے اپنی اس نوع کی تخلیقات میں اپنے آدرشوں اور خیالوں کو فنکارانہ طور پر تو پیش کیا ہی ایک مفکر اور صحافی کی حیثیت سے موقع بہ موقع ان عناصر کے خلاف مضامین، تبصرے اور خطوط لکھے جن میں ہر نوع کی فرقہ واریت کے خلاف ان کا سیکولر اور ترقی پسند نظریہ کھل کر سامنے آیا ہے۔ ‘‘ ۲؎ 

 ان کے ادب میں مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد کا شائبہ تک نہیں ہے، لیکن انتہا پسند ہندتوا کی تنقید ان کے فکری اور غیر افسانوی ادب میں جا بہ جا موجود ہے۔ ہندو مسلم اتحاد کو وہ جنگ آزادی کی کامیابی کا ضامن سمجھتے تھے۔   ۱۹۲۱؁ میں’’ موجودہ تحریک کے راستے میں رکاوٹیں‘‘ عنوان سے ایک مضمون میں انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت کی نشاندہی ان الفاظ میں کی ہے:

’’ہندو مسلم اتحاد کا مسئلہ نہایت نازک ہے اور اگر پورے احتیاط اور تحمل اور ضبط اور رواداری سے کام نہ لیا گیا تو یہ سوراجیہ کی تحریک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا۔‘‘  ۳؎

مزید یہ کہ :

’’ہندو مسلم اتحاد کا سوال کتنا اہم ہے اس کے کہنے کی ضرورت نہیں۔ ہم سبھی جانتے ہیں اور سبھی اعتراف کرتے ہیں۔ ہم سبھی لوگوں کو جنھیں ملک سے کچھ محبت ہے فرض یہ ہے کہ حسب مقدور کوئی ایساکام نہ کریں کوئی ایسی بات نہ کہیں جس سے اتحاد میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو۔ کاش ہم اتنے مفاد پرست نہ ہوتے تو آج یہ سوال اتنا پیچیدہ، اتنا مشکل، اتنا لاعلاج نہ ہوتا۔ … اگر کوئی ہندو ہندوؤں کو سمجھاتا ہے تو وہ جے چند اور وبھیشن کہا جاتا ہے، کوئی مسلمان مسلمانوں کو سمجھاتا ہے تو کافر اور غدار کہا جاتا ہے۔‘‘ ۴؎

در حقیقت یہ مسئلہ محض ماضی میں تحریک آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں تھا بلکہ عصر حاضر میں بھی ہمارے ملک کی تعمیر و ترقی کے راستے میں سب سے بڑا رخنہ ہے۔ عدم تعاون اور تحریک خلافت کے اتحاد سے پریم چند کو بڑی امیدیں تھیں۔ لہٰذا ’’موجودہ تحریک کے راستے میں رکاوٹیں‘‘ کے آخر میں وہ ہندوؤں اور مسلمانوں سے یہ اپیل کرتے ہیں:

’’ہندوؤں کے لئے مسلمانوں کے قلب ماہیت کی اس سے اچھی کوئی صورت نہیں ہے کہ وہ حسب مقدور تحریک خلافت میں تعاون کریں ۔ اور باہم ایسے اتحاد کی بنیاد ڈالیں جو ہمیشہ قائم رہے۔‘‘۵؎

لیکن عدم تعاون کی تحریک کے التوا اور تنسیخ خلافت کے واقعہ نے ان کی تمام تر امیدوں پر پانی پھیر دیا، کیونکہ اس کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک متناہی سلسلہ جاری ہو گیا۔ ۱۹۲۲ میں ملتان میں، ۱۹۲۳ میں محرم کے موقعے پر بنگال اور پنجاب میں، ۱۹۲۴ میں دہلی، گلبرگہ، ناگپور، جبل پور، لکھنؤ، الہ آباد، شاہ جہاں پور، ۱۹۲۶ میں ڈھاکہ، پٹنہ، راولپنڈی اور دہلی میں فسادات پھوٹ پڑے۔ ان میں سب سے زیادہ تشویشناک صورت حال صوباجاتِ متحدہ(اتر پردیش) کی تھی جہاں ۱۹۲۳ سے ۱۹۲۷ کے درمیان ۹۱ فسادات ہوئے۔ ان فسادات نے دونوں فرقوں کے درمیان فرقہ وارانہ خیالات کو خوب فروغ بخشا۔ آریہ سماج نے جب شدھی تحریک شروع کی تو نتیجے کے طور پر مسلمانوں نے بھی دعوت و تبلیغ کا آغاز کر دیا۔ اس وقت ہندو مہاسبھا نے بھی اپنے بنارس کے اجلاس میں شدھی کی تحریک کی حمایت کی۔ یہی وہ وقت تھاجب پریم چند نے زمانہ کے مدیر منشی دیا نرائن نگم کو ایک خط لکھا:

’’ملکانا شدھی پر ایک مختصر مضمون لکھ رہا ہوں۔ مجھے اس تحریک سے سخت اختلاف ہے… آریہ سماج والے بھنّائیں گے لیکن مجھے امید ہے آپ زمانہ میں اس مضمون کو جگہ دیں گے۔‘‘ ۶؎ 

اس ضمن میں ایک بات قابل ذکر ہے کہ مانک ٹالا نے اپنے مضمون پریم چند کا سیکویولر کردار میں اس مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ :

’’ زمانہ( اپریل ۱۹۲۳؁) میں ملکانہ راجپوت مسلمانوں کی شدھی کے نام سے ایک سخت مضمون شائع کرایا‘‘ ۷؎ 

جبکہ’’ زمانہ‘‘ نے مارچ اور اپریل ۱۹۲۳؁ کا شمارہ ایک ساتھ شائع کیا تھا جس میں یہ مضمون نہیں ہے۔ یہ مضمون اسی عنوان سے’’ زمانہ‘‘ کے مئی ۱۹۲۳؁ کے شمارے میں شامل ہے۔ اس مضمون سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’بڑے شد و مد کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ملکانا تو دراصل ہندو ہیں۔انھیں مسلمان سمجھنا ہی غلطی ہے۔ وہ ہندو نام رکھتے ہیں، ہندوؤں کے دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں۔ شادیوں میں پروہتوں کو بلاتے ہیں۔ صرف مردے دفن کرتے ہیں اور ختنہ کراتے ہیں۔ اس لئے انھیں پھر ہندو دائرے میں لے کر ہم مسلمانوں پر کوئی زیادتی نہیں کر رہے ہیں۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ اب تک ملکانوں کا شمار مردم شماری کے کاغذات میں کس ذیل میں ہوتا تھا۔ ہندوؤں میں یا مسلمانوں میں؟ جب یہ ظاہر ہے کہ وہ مسلمان شمار کئے جاتے ہیں تو انھیں تبدیل مذہب پر آمادہ کرنا یقیناً مسلمانوں کی اعدادی قوت کو ضرر پہنچانا ہے۔ ہندوؤں میں کتنے ہی ایسے فرقے ہیں جو اسلامی رسم و رواج کی پابندی کرتے ہیں۔ پانچوں پیروں کی پرستش کرتے ہیں، سید غازی کے مزار پر سجدے کرتے ہیں، تعزیوں کو شربت چڑھاتے ہیں، محرم میں سبز کپڑے پہن کر نکلتے ہیں اگر اسی دلیل پر آج وہ سب کے سب مسلمان ہو جائیں تو کیا ہندو یہ خیال کرکے اپنے دل کو تسکین دے لیں گے کہ وہ  توبرائے نام ہندو تھے۔‘‘  ۸؎ 

’’…اس کا شائع ہونا تھا کہ چاروں طرف تہلکہ مچ گیا۔ مسلمانوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ہندو غصے سے دانت کٹکٹانے لگے‘‘۹؎ 

ہندتوا کی سیاست کا آغاز ہمارے ملک میں جد وجہد آزادی کے دوران ہی ہو گیا تھا۔ ۱۸۷۵ میں آریہ سماج کا قیام، ۱۹۰۰ میں بھارت دھرم مہا منڈل، ۱۹۱۵ میں ہندو مہا سبھا اور ۱۹۲۵ میں آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا۔ اگر ہم ان تنظیموں کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ آریہ سماج اور سناتن دھرمی جو بظاہر ایک دوسرے کے مخالف نظر آتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔ ہندتوا کا نظریہ جیسے جیسے شدت اختیار کرتا گیا ویسے ویسے ان کے بیچ کا فاصلہ بھی سمٹتا چلا گیا۔ آریہ سماجی اصلاح اور سناتنی فرسودگی کے انسلاک کا عملی اظہار لالہ لاجپت رائے اور مدن موہن مالویہ کی سیاسی ہم آہنگی کے طور پر ہوا، جب ان دونوں حضرات نے متحدہ طور پر ۱۹۲۶ میں ہونے والے انتخابات میں موتی لال نہرو کی سوراجیہ پارٹی کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی۔

ملک میں ہندتوا کی سیاست کے بتدریج ارتقاء کے شانہ بہ شانہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے عمل میں بھی روز افزوں اضافہ ہو رہا تھا، اور ہندتوا کے علم بردار کچھ ادیب بھی ’رنگیلا رسول‘ اور’ اسلام کا وش ورکش‘ جیسی نفرت کے زہر سے لبریز کتابیں لکھ کر لوگوں کے مذہبی جذبات کو بر انگیختہ کر رہے تھے۔ پریم چند اس نفرت آمیز پروپیگنڈا کو بخوبی سمجھ رہے تھے۔ انھوں نے ۱۷؍جولائی ۱۹۳۳؁ کے جاگرن میں پنڈت سندر لال کی اس تقریر کا خلاصہ پیش کیا جس میں حضور اکرم ﷺ اور اسلام کے خلاف لگائے تمام الزامات کا دنداں شکن جواب تھا:

’’حضرت محمد ﷺ نے کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا، ان کی حیات میں ایسی ایک بھی مثال کہیں نہیں ملتی کہ انھوں نے تبلیغ کے لیے یا فتح کے لیے کسی پر فوج کشی کی ہو۔ جب بھی کبھی انھوں نے تلوار اٹھائی تو دشمنوں سے اپنی حفاظت کرنے کے لیے اور وہ بھی اس حالت میں جب اور کسی طرح دشمن اپنے ظلم سے باز نہ آیا…مکہ والوں کے ظلم سے تنگ آکر وہ مدینہ چلے گئے تھے، جب تیرہ برس بعد انھوں نے پھر مکہ پر فتح پائی تو سارا مکہ خوف سے کانپ رہا تھا کہ نہ جانے کتنی بڑی آفت آنے والی ہے، پر حضرت نے سب کو معاف کر دیا، حالانکہ وہ چاہتے تو مکہ میں قتل عام کرا سکتے تھے۔ ‘‘ ۱۰؎ 

اور یہ کہ:

’’…نفرت پھیلانے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت مخمد ﷺ عیش پرست تھے حالانکہ سچ یہ ہے کہ ان کی زندگی سچی عبادت اور  ریاضت کی زندگی تھی…ان کے ایثار کی داستان حیرت انگیز ہے جو ایک سلطنت کا حاکم تھا وہ کھجور کی چٹائی پر سوتا تھا… جمع پونجی کا یہ حال تھا کہ آخری رسوم کے وقت حضرت کی زرہ پونے دو من جَو پر رہن رکھی گئی۔ جس شخص کی ساری زندگی اس طرح کی ریاضت میں گزری ہو اور جس نے استطاعت ہونے پر اس ریاضت میں فرق نہ آنے دیا ہو اس کے تئیں ہمیں عقیدت اور محبت ہونا چاہیے۔ کتنے افسوس کی بات ہے ایسی عظیم شخصیت پر جھوٹے الزامات لگا کر ہم نفرت بڑھاتے ہیں۔ ‘‘۱۱؎

اسی طرح چتر سین شاستری نے جو پریم چند کے عزیزوں میں تھے جب’ اسلام کا وش ورکش‘  کتاب لکھی تو پریم چند سخت برہم ہوئے۔ انھوں نے ان پر خود بھی سخت لہجے میں تنقید کی اور اپنے دوست احباب سے بھی کروائی۔ اس ضمن میں لکھتے ہیں:

’’اس کتاب کا نام ہی بتلا رہا ہے کہ اس کی تخلیق کس جذبے سے تحریک پاکر ہوئی ہے…اس کتاب میں بیشتر انہی انگریز مؤرخین سے نقل کیا گیا ہے، جن میں مسلمانوں کے تئیں کافی عداوت اور حسد کا جذبہ بھرا ہوا ہے… شری چتر سین جی ہمارے دوست ہیں۔ وہ، دانشور ہیں، با شعور ہیں، وسیع القلب ہیں، ہم ان سے التجا کرتے ہیں کہ ایسی واہیات اور پرتشدد تخلیقات تحریر کرکے اپنی لیاقت کو اور ہندی زبان کو داغ دار نہ کریں، اور ملک میں جو تشدد اور عناد پہلے سے ہی پھیلا ہوا ہے اس بارود میں آگ نہ لگاویں ۔‘‘۱۲؎

ہندتوا کی سیاست جس برق رفتاری سے ملک گیر سطح پر بال و پر پھیلا رہی تھی اس نے پریم چند کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ وہ ہندوؤں کی تنگ نظری پر انتہائی تلخ لہجے میں اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہندو قوم کبھی اپنی سیاسی بیدار مغزی کے لئے مشہور نہیں رہی اور اس موقعے پر تو اس نے جس تنگ ظرفی کا ثبوت دیا ہے اس سے مجبوراًاعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس قوم کا سیاسی دیوالہ ہو گیا۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ ساری ہندو قوم من حیث الجموع محض چند شوریدہ سر نام نہادمحبان وطن کی تحریک پر یوں ازخود رفتہ ہو جاتی۔ہم کہتے ہیں کہ اگر ہندوؤں میں ایک بھی کچلو، محمد علی، شوکت علی ہوتا تو ہندو سنگٹھن اور شدھی کی اتنی گرم بازاری نہ ہوتی۔ اُن ہنگاموں میں قابل محسوس کمی ہو جاتی جو ان تعصبات کے زیر اثر ہیں ہیں۔‘‘۱۳؎

پریم چند ایک طرف ہندو مسلم اتحاد کے لئے سعیٔ پیہم کرنے والے علی برادران محمد علی اور شوکت علی کی ستائش کرتے ہیں وہیں دوسری جانب ملکانا شدھی کا نعرہ بلند کرنے والوں کے متعلق لکھتے ہیں:

’’آج کون ہندو ہے جو ہندو مسلم اتحاد کے مسئلہ پر ہمہ تن مصروف ہو، جو اسے ہندوستان کا اہم ترین مسئلہ سمجھتا ہو، جو سوراجیہ کے لئے اتحاد کو بنیادی شرط سمجھتا ہو۔یہ درد قوم،یہ خلش،یہ سوز،آج ہندوؤں میںمعدوم ہے۔دس پانچ ہزار ملکانوں کو شدھ کرکے لوگ جامہ میں پھولے نہیں سماتے، گویا منزل مقصود پر پہنچ گئے۔ اب سوراج حاصل ہو گیا۔‘‘۱۴؎

۱۹۲۲ سے ۱۹۲۷ کے درمیان ملک میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ان کی سب سے اہم وجوہات یہ تھیںکہ مسلمانوں کا تقاضہ تھا کہ نماز کے وقت مسجدوں کے سامنے گزرتے ہوئے بینڈ باجے نہ بجائے جائیں اور ہندوؤں کا مطالبہ تھا کہ گئو کشی بند ہو۔ اس مسئلے پر بھی پریم چند غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے مصالحت کا راستہ تجویز کرتے ہیں:

’’ہندوؤں کے تیوہاروں اور جلوسوں کے موقعے پر اکثر مسلمانوں کی طرف سے یہ تقاضہ ہوتا ہے کہ مسجدوں کے سامنے نماز کے موقعے پر باجا اور شادیانے نہ بجائے جائیں۔ یہ بہت ہی فطری تقاضہ ہے۔ شورو غل سے عبادت میں خلل پڑنا  لازمی ہے۔ اور اگر مسلمان اس شورو غل کو بند کرنے پر زور دیتے ہیں تو ہندوؤں کولازم ہے وہ ان کی دل جوئی کریں۔ یہ تو ہندوؤں کو بغیر اصرار کئے معبود کے احترام سے فرض ہے۔ نہ کہ جب کوئی انھیں ان کا فرض یاد دلائے تو اس سے آمادۂ پر خاش ہوں۔‘‘۱۵؎

گئو کشی کا مسئلہ موجودہ دور میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی وجہ سے ملک کا امن و امان نابود ہو گیا ہے۔اس کی بنیاد پر آج بھی نہ جانے کتنے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسی کے سبب حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیا گیا ہے۔ پریم چند ایک صدی قبل اس مسئلے پر جس بے باکی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں آج کے ادیب سے اس کی امید کرنا فضول ہے۔ پریم چند نے اس رمز کو بخوبی سمجھ لیاتھا کہ گائے سے یہ عقیدت دراصل ان نام نہاد عقیدت مندوں کی ایک چال ہے اور اس کے پس پردہ ان کے سیاسی مفادات کارفرما ہیں۔لہٰذا گئو کشی کے لئے وہ ہندوؤں کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لکھتے ہیں: 

’’ گئو کشی کے موضوع پر بھی مسلمانوں کی مخالفت بہت کچھ سرد ہو چلی تھی اور اگر بیچ میں ایک تیسرا گروہ للکارنے والا نہ ہوتا تو اب تک خاموش ہو گئی ہوتی۔ مسلمانوں نے ہی ثابت کیا تھا کہ ٹیپو سلطان نے گئو کشی کو ممنوع کر دیا تھا، اکبر کے دور حکومت میں گئو کشی کا ممنوع ہونا بھی ایک مسلمان دانشور کی تلاش تھی۔ امیر کابل نے گئو کشی کی ممانعت کر ہی دی ہے۔ وہاں تو اتنی رحم دلی دکھائی جا رہی ہے اور یہاں ہندو لوگ بورڈوں میں اپنی اکثریت کی طاقت پر گئو کشی بند کرانے کے لئے قانونی انتظامات کرنے لگے۔ ایک مسلمان ہی نے البقر نام کا پرچہ نکالا تھا جس کا مقصد گائے کی حفاظت تھا۔ یہاں تک کہ مولویوں نے گئو کشی کے خلاف فتوے دینے شروع کر دئے تھے۔ بہت ممکن تھا کہ اگر ہندوؤں نے مہاتما جی کے دکھائے راستے کو چھوڑ نہ دیا ہوتا تو تھوڑے دنوں میں گئو کشی اپنی موت مر جاتی۔ مولانا شوکت علی نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر اب بھی مسلمان گئو کشی کر رہے ہیں تو اس کے لئے انھیں اس کی تحریک دی جا رہی ہے، اور جب تک تحریک ملتی رہے گی گئو کشی بند نہیں ہو سکتی۔‘‘۱۶؎

گئو کشی پر واویلا مچانے والی ہندو تنظیموں سے گائے کی حفاظت کو لے وہ جواب طلب کرتے ہیں:

’’پھر ہندو ہی گائے کی حفاظت کو لے کر کیا کوشش کر رہے ہیںکہ مسلمان ان کی نیک نیتی کے قائل ہوتے۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں نے صرف ہمیں نیچا دکھانے کے لئے اس سوال کو اٹھا رکھا ہے۔  … بہت کم ایسے ہندو ہیں خاص کر ان لوگوں میں جو گئو کشی کے سب سے بڑے مخالف ہیں، جنھوں نے کبھی گائے پالی ہو یا گئو شالہ میں چندہ دیتے ہوں یا کبھی کسی گائے کو ایک روٹی یا ایک گٹھا چارا کھلایا ہو ۔‘‘۱۷؎

ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار پریم چند ایک با شعور اور انسان دوست ادیب ہونے کے ناطے پوری ذمہ داری سے یہ سوال اٹھاتے ہیں:

’’گائے کتنی ہی مقدس ہو لیکن انسان کی برابری نہیں کر سکتی۔ مسلمان کتنے ہی گئے گزرے ہوں پھر بھی آدمی ہیں۔ کیا اندھیر ہے کہ ہم اپنے کھانے کے برتنوں میں کتے کو کھانا کھلاتے ہیں لیکن کسی مسلمان کو پانی پلانا ہو تو کلڑھ تلاش کرتے ہیں۔ کتے کا منھ کا لمس مانجنے سے صاف ہو جاتا ہے لیکن مسلمان کے منھ کا لمس دائمی ہے۔ کیا ایسی حالت میں بھی ہم امید کر سکتے ہیں کہ کوئی خوددار مسلمان ہم سے بھائی چارے کا برتاؤ کرے گا۔‘‘۱۸؎

مسلمانوں پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگانے والوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

’’ہاں مسلمان گائے کی قربانی کرتے ہیں اور اس کا گوشت کھاتے ہیںلیکن ہندوؤں میں ابھی ایسی ذاتیں موجود ہیں جو گائے کا گوشت کھاتی ہیں۔ ہاں یہاں تک کہ مردار گوشت بھی نہیں چھوڑتیں۔‘‘۱۹؎

پریم چند دوسروں پر اپنے عقائد بالجبر تھوپنے کے قائل نہیں لہٰذا رقم طراز ہیں: 

’’دنیا میں ہندو ہی ایک قوم ہے جو گائے کے گوشت کو حرام یا ناپاک سمجھتی ہے، تو کیا اس لئے ہندوؤں کو ساری دنیا سے مذہبی جنگ چھیڑ دینا چاہئے؟‘‘۲۰؎  

فرقہ واریت کا مسئلہ مذہبی ہے، یا سماجی یا سیاسی، یا پھر اسے صرف نفسیات سے منسلک کر کے دیکھا جائے اور اسے دماغی خلل یا جنون یا فطور سمجھا جائے، یا پھر معاشی اور تاریخی بنیاد پر اس کا تجزیہ کیا جائے؟ فرقہ واریت سے نبرد آزما ہونے کے لئے کون سا لائحۂ عمل تیار کیا جائے؟ فکری، سیاسی یا سماجی سطح پر؟ یا عوامی تحریکات کی صورت میں؟ ان تمام سوالوں کے جواب تلاش کرنے میں آج بھی دانشور، مفکرین اور ادباء سرگرداں ہیں۔ اگر پریم چند کے ادب کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان تمام سوالوں اور ان سے جڑے پیچیدہ مسائل کا ممکنہ حل اس میں موجود ہے۔ بقول پروفیسر قمر رئیس:

’’پریم چند ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا جو عرفان رکھتے تھے اور اس کے تحفظ کے لئے انھوں نے جو تگ و دو کی، جیسی قربانیاں دیں، یہ سعادت اردو کے بہت کم ادیبوں کے حصے میں آئی ہے۔ انھوں نے ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس کے خطبۂ صدارت میں کہا کہ ادیب سیاست کے پیچھے چلنے والی حقیقت نہیں، اس کے آگے مشعل ہاتھ میں لے کر چلنے والی سچائی ہے۔ انھوں نے ہندوستانی سماج کے تضادات کو جس طرح سمجھا تھا اس کے سماجی، تہذیبی اور لسانی مسائل کا جو دانشمندانہ حل پیش کیا تھا اس پر عمل ہو سکتا تو کم از کم آج ملک کی وہ حالت نہ ہوتی جو ہوئی اور ہو رہی ہے۔‘‘۲۱؎

مذہبی اجارہ داری، سماجی نابرابری، سرمایہ دارانہ جبر و استحصال اور فرقہ واریت کے خلاف جس جنگ کا آغاز پریم چند نے کیا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ آج بھی ان کی تخلیقات ظلم و نفرت کے ان سوداگروں سے بر سر پیکار ہیںاور اس جنگ میں شامل ہونے والے افراد کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔


حواشی

۱؎ مانک ٹالا : پریم چند کا سیکیولر کردار اور دیگر مضامین  صفحہ ۲۳

۲؎ پرفیسر علی احمد فاطمی : پریم چند نئے تناظر میں صفحہ ۵۶

۳؎ پریم چند :وودھ پرسنگ جلد دوم صفحہ ۳۳

۴؎ پریم چند : ہندو مسلم پرشن: پرتاپ کانپور ستمبر ۱۹۲۴

۵؎ پریم چند :  وودھ پرسنگ جلد دوم صفحہ ۳۴

۶؎ امرت رائے :قلم کا سپاہی صفحہ ۲۵۹

۷؎ پریم چند کا سیکولر کردار اور دیگر مضامین  صفحہ ۲۴

۸؎ ملکانا راجپوت مسلمانوں کی شدھی: زمانہ مئی ۱۹۲۳؁ صفحہ ۲۱۶

۹؎ امرت رائے : قلم کا سپاہی صفحہ ۲۶۰

۱۰؎ حضرت محمد کی پنیہ اسمرتی :  وودھ پرسنگ جلد دوم ص۴۱۱

۱۱؎ حضرت محمد کی پنیہ اسمرتی :  وودھ پرسنگ جلد دوم ص۱۴۔۴۱۲

۱۲؎   اسلام کا وش ورکش :  وودھ پرسنگ جلد دوم ص۱۶۔۴۱۵

۱۳؎ قحط الرجال :زمانہ فروری ۱۹۲۴  صفحہ۱۱۔۰ ۱۱

۱۴؎ قحط الرجال :زمانہ فروری ۱۹۲۴  صفحہ ۱۱۱

۱۵؎ قحط الرجال :زمانہ فروری ۱۹۲۴  صفحہ ۱۱۲

۱۶؎ ہندو مسلم پرشن :  بحوالہ مدن گوپال مرتبہ کلیات پریم چند جلد بست و سوم صفحہ ۶۱۴

۱۷؎ ہندو مسلم پرشن :  بحوالہ مدن گوپال مرتبہ کلیات پریم چند جلد بست و سوم صفحہ ۶۱۴

۱۸؎ ہندو مسلم پرشن :  بحوالہ مدن گوپال مرتبہ کلیات پریم چند جلد بست و سوم صفحہ ۶۱۴

۱۹؎ سامپردائکتا اور سنسکرتی جنوری ۱۹۳۴  بحوالہ مدن گوپال مرتبہ کلیات پریم چند جلد بست و سوم صفحہ۲۶۰

۲۰؎ سامپردائکتا اور سنسکرتی جنوری ۱۹۳۴  بحوالہ مدن گوپال مرتبہ کلیات پریم چند جلد بست و سوم صفحہ۲۶۰

۲۱؎ پروفیسر قمر رئیس : پریم چند اور فرقہ واریت …ماہ نامہ سہیل۔ گیا: پریم چند نمبر صفحہ ۱۰۷


ڈاکٹر جوہی بیگم

شعبہ اردو، الہ آباد ڈگری کالج


تبصرے

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا