ہم سانچے میں حالات کے ڈھل ہی گئے دیکھو (غزل)
ہم سانچے میں حالات کے ڈھل ہی گئے دیکھو
موسم کی طرح ہم بھی بدل ہی گئے دیکھو
دنیا نے نگاہوں سے کئی بار گرایا
ہر بار مگر گر کے سنبھل ہی گئے دیکھو
کب سے تھے سنبھالے ہوئے اشکوں کی روانی
ساحل پہ مژاں کے یہ مچل ہی گئے دیکھو
جو آگ لگاتے تھے عداوت کی دلوں میں
خود آج انہی شعلوں میں جل ہی گئے دیکھو
وہ گل جو ابھی باغ میں تازہ ہی کھلے تھے
گل چین کے ہاتھوں وہ مسل ہی گئے دیکھو
یخ بستہ تھے سینے میں محبت کے جو احساس
جذبوں کی حرارت سے پگھل ہی گئے دیکھو
رفتار زمانہ کا اثر شاماؔ ہے شاید
آگے حد امکاں سے نکل ہی گئے دیکھو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں