آنکھوں میں صداقت کی وہ تنویر نہیں ہے (غزل)
آنکھوں میں صداقت کی وہ تنویر نہیں ہے
کیوں لب پہ ترے نعرۂ تکبیر نہیں ہے
تعلیم کے شعبوں میں بھی حاوی ہے سیاست
یہ علم کی تذلیل ہے توقیر نہیں ہے
پہلے سے مراسم نہ سہی اتنا بتا دے
تو میری طرح بیکل و دلگیر نہیں ہے؟
پلکوں کے نشیمن میں اسے کیسے بساؤں
وہ خواب کہ جس کی کوئی تعبیر نہیں ہے
کچھ تو مری باتوں کا اثر اس پہ بھی ہوگا
تاثیر سے خالی مری تقریر نہیں ہے
سانچے میں عمل کے ہی سنورتا ہے مقدر
اچھی بری انسان کی تقدیر نہیں ہے
کیا سرد لہو ہو گیا مسلم کا رگوں میں
لفّاظ ہیں سب، غازیٔ شمشیر نہیں ہے
ہر دور میں معتوب رہی ہے یہ محبت
جس کی ہو معافی یہ وہ تقصیر نہیں ہے
آہن کی طرح شاماؔ محکم ہے ترا ایماں
پانی پہ بنی کوئی یہ تصویر نہیں ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں