یوں زندگی کا زہر پیے جا رہے ہیں ہم (غزل)
یوں زندگی کا زہر پیے جا رہے ہیں ہم
مرنے کی آرزو میں جیے جا رہے ہیں ہم
دامن ہے چاک اپنا گریباں ہے تار تار
اوروں کے پیرہن کو سیے جا رہے ہیں ہم
دنیا کو دل کے داغ دکھانا فضول ہے
اشکوں کا جام ہنس کے پیے جا رہے ہیں ہم
خود داری و انا جہاں ہوتی ہے سنگسار
اس بزم پہ ہی جان دیے جا رہے ہیں ہم
جنبش ذرا سی اس کو نہ کر دے ذلیل و خوار
اس واسطے لبوں کو سیے جا رہے ہیں ہم
جور و ستم پہ اپنے پشیمان تم نہ ہو
الزام اپنے سر یہ لیے جا رہے ہیں ہم
ہر چند حق بیانی پہ معتوب ہیں مگر
شاماؔ یہی گناہ کیے جا رہے ہیں ہم
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں