پریم چند کی کردار نگاری
افسانوی ادب میں کردار نگاری کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ادیب کرداروں سے اپنی کہانیوں کو جلابخشتا ہے۔ پریم چند سے قبل اردوادب کے اکثر کردار خیالی دنیا سے تعلق رکھتے تھے ان کا حقیقت سے کو ئی سروکار نہیںتھا۔ پریم چند نے ادب کا رشتہ زندگی سے استوار کیا اس لیے ضروری تھا کہ ان کے کردار اسی دنیا اور زندگی سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ پریم چند ادب کی مقصدیت اور افادیت کے قائل تھے اسی لیے انھوں نے اپنے گردو پیش کی زندگی و حالات کا مطالعہ و مشاہدہ کیا۔ انھوں نے اپنے ارد گردجوبھی دیکھا اس کو اپنے ادب میں پیش کردیا۔ اس مناسبت سے ان کے کردار ماورائی نہ ہو کر اسی دنیا کے جیتے جاگتے انسان ہیں۔ جن میں کسان، مزدور، مہتر، چمار، دھوبی، پاسی، ملا، پنڈت، زمیندار، جاگیردار، راجا، رانی،نواب، بیگمات، شہزازدے، شہزادیاں، کانسٹیبل، داروغہ، مجسٹریٹ، تحصیلدار، زمینداروںکے کارندے، سیاسی کارکن، ڈاکٹر،وکیل، کلرک، افسر، گھریلو خواتین، طوائفیںگویا زندگی کے تقریباً ہر شعبے کے افراد شامل ہیں۔
انسان کا اس کے گردو پیش کے ماحول سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ وہ جس معاشرے میں رہتا ہے اس کے نشیب و فراز سے نہ صرف یہ کہ خود متاثر ہوتا ہے بلکہ اپنے فکر وخیال سے اسے متاثر بھی کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ انسان کے خیال میں تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذاانسانی فکر کے ساتھ معاشرہ بھی تغیرّپذیر ہوتا ہے۔ اسی طرح معاشرے پر پڑنے والے مختلف اثرات کے سبب افراد کے فکرو خیال میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اسباب معاشی‘ معاشرتی‘ مذہبی‘ عائلی یا پھر سیاسی ہو سکتے ہیں۔ حقیقت پسند فنکار اپنے افسانوں کو اپنے عصری تناظر میں پیش کرنے کی کو شش کرتا ہے۔ سماج کی حقیقی عکاسی کے لیے اسے کردار بھی اپنے ارد گرد سے ہی چننے ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کی تخلیقات میں وہی افراد نظر آئیں جنھیں ہم جیتا جاگتا اپنے گردوپیش میں دیکھتے ہیں۔
پریم چند کا عہد سیاسی، سماجی، مذہبی اور معاشی افراتفری کا دور تھا۔ ایک طرف مختلف سماجی، سیاسی اور مذہبی تحریکات سے متاثر ہوکر لوگ مروجہ سماجی نقائص سے بیزار ہورہے تھے تو دوسری طرف قدامت پسند پر انے سماجی اقدار سے کسی صورت میں دست بردار ہونے کو تیار نہ تھے ایک طرف لوگ انگریزوں کے مظالم سے تنگ آکر کانگریس کے علم بغاوت کے نیچے جمع ہو کر آزادی کے لیے آواز بلند کر رہے تھے تو دوسری طرف کچھ خود غرض لوگ اپنی ذاتی اغراض کے لیے انگریزوں کی خوشامد کو اپنا نصب العین خیال کرتے تھے۔ ایک طرف اپنا خون پسینہ بہا کر دھرتی کا سینہ چیر کر اناج پیدا کرنے والے نیم برہنہ و بھوکے کسان تھے تو دوسری طرف ان کسانوں کو لوٹنے والے زمیندار وسرکاری عمال۔ ایک طرف دانے دانے کو محتاج مزدور تھے تو دوسری طرف ان کا استحصال کرنے والے سرمایہ دار۔ ان حالات میں پریم چند نے سماج کی عکاسی اپنے قلم سے کرنی چاہی تو انہی افراد کو ان کے ادب میں جگہ ملنی فطری بات تھی۔
جس وقت پریم چند نے تخلیقی سفر کا آغاز کیا اردو ادب میں حسن وعشق کے قصوں کی دھوم تھی۔ اردوادب مافوق الفطری کرداروں سے بھرا پڑا تھا۔ ادیب اپنے پیش روئوں اور ہم عصر وں سے ضرور متاثر ہوتا ہے لہٰذاپریم چند بھی مروجہ طرز سے خود کو بچانہ پائے۔ ان کے ابتدائی افسانے حسن وعشق کی فضا سے معمور ہیں۔ ’دنیا کا سب سے انمول رتن‘ کے کردار ملکہ دلفریب اور اس کا عاشق دلفگار اس عہد کے مروجہ کرداروں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ پریم چند کا ذہنی ارتقاء عام ادیب کے مقابلے بہت تیز تھا اسی لیے وہ بہت جلد اپنے کردار تخیل کے بجائے ہندوستان کے شاندار ماضی میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اب ان کی نظر انتخاب راجستھان اور بندیل کھنڈ کے راجپوتوں پر جا ٹکتی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے متعدد کہانیاں لکھیں جن میں راجپوتوں کی حب الوطنی اور جانبازی کے قصے مفصل بیان کیے ہیں۔ اس ضمن میں ان کی کہانی ’روٹھی رانی‘ کے کردار راجا مالدیو ، رانی امادے، ’گناہ کا اگن کنڈ‘ کے دھرم سنگھ، کنور پرتھی سنگھ، ’وکرمہ دت کا تیغہ‘ کے مہاراجا رنجیت سنگھ، اور کہانی ’راجا ہر دول‘ کے ہردول جیسے کردار خصوصاً قابل ذکر ہیں جن کے لیے فرض اور انصاف دنیا کی ہر شے سے زیادہ قیمتی ہے۔
پریم چند نظریاتی ارتقاء کی راہ پر مسلسل گامزن رہے۔ جیسے جیسے ان کے نظریات اور شعورمیں بالیدگی آتی گئی ویسے ویسے ان کے کردار بدلتے گئے۔ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار پریم چند کانگریس اور مہاتما گاندھی کے ہم نوابن گئے۔ اب وہ ماضی کی خوش گواریادوں سے نکل کر حقیقت کی سخت زمین پر آن کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے انگریزوں کے مظالم اپنے ہم وطنوں پر دیکھے تھے۔ برٹش حکومت کے ظلم اور ہندوستانی عوام کی بے بسی دیکھ کر ان کا دل کراہ اٹھا۔ انھو ں نے اپنی سرکاری ملازمت ہی نہ ترک کی بلکہ بہ زبان قلم انگریزوں کے خلاف مورچہ بھی کھول دیا اور ’’استعفیٰ‘‘، ’’آشیاں برباد‘‘، ’’عجیب ہولی‘‘ اور ’’لال فیتہ‘‘ جیسی متعدد کہانیاں لکھیں۔ تحریک آزادی سے متاثر ان تمام کہانیوں میں اس عہد میں عوام کے دلوںمیں موجزن جذبۂ آزادی کا پرتو نظر آتا ہے۔ ’’آشیاں برباد‘‘ کی مردلاپولیس کے ہاتھوں اپنے بیٹے کو گنوانے کے بعد خود بھی وطن پر جان نثار کرنے کو تیار ہے۔’’عجیب ہولی‘‘ کے لالہ اوجاگرلال ترک موالات تحریک سے سخت نالاں ہیں لیکن ایک انگریز افسر کے ہاتھوں بے عزت ہونے پر کانگریس سے منسلک ہوجاتے ہیں۔ ’’لال فیتہ‘‘ کے رائے ہری بلاس ایک ذمے دار اور دیانت دار ڈپٹی مجسٹریٹ ہیں۔ لیکن حکومت کے ایک ظالمانہ اور غیر منصفانہ حکم سے دل برداشتہ ہو کر عہدے سے استعفیٰ دے دیتے ہیں اور انقلابیوں کی کمان سنبھال لیتے ہیں۔ اسی طرح ’استعفیٰ‘ کہانی کے فتح چند ایک دفتر میں کلرک ہیں۔ ان کی مختصر آمدنی پر بڑے خاندان کی پرورش کا بار ہے اس کے باوجود انگریز افسر کے ذریعے بے عزت کیے جانے پر وہ نہ صرف نوکری سے مستعفی ہوجاتے ہیں بلکہ افسر سے اپنی بے عزتی کا بدلہ بھی لیتے ہیں۔ پریم چند کی متعددکہانیاں اور ناول آزادی کے پر وانوں سے بھری ہیں۔
جیسا کہ ذکر آ چکا ہے کہ پریم چند نے اپنے عہد کے ہر فرقے وطبقے کے افراد کو اپنے ادب میں جگہ دی۔ ان کے کرداروں میں اگر چہ دیہی افراد کی کثرت ہے لیکن شہری عوام سے بھی انھوں نے روگردانی نہیں کی۔ ان کے شہر ی کرداروں میں اکثر تعلیم یافتہ‘ مہذب اور مغربی ذہنیت رکھنے والے افراد مذہب اور تہذیب سے گہرا شغف رکھتے ہیں لیکن چیدہ چیدہ ایسے کرداربھی نظر آتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد خود کودوسروں سے اعلیٰ وارفع تصور کرتے ہیں، غریب اور ناخواندہ افراد کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔’منتر‘ کہانی کے ڈاکٹر چڈھا اور ’اصلاح‘ کہانی کے ڈاکٹر عرفان علی ایسے ہی کردار ہیں۔ ایسا نہیں کہ پریم چند سبھی تعلیم یافتہ افراد کو سنگ دل اور خود غرض خیال کرتے ہیں بلکہ ان کی نظر ان افراد پر بھی اٹھتی ہے جن میں باوجود اعلیٰ تعلیم کے انسانیت کے جوہر منکشف ہوتے ہیں۔ کہانی’اصلاح‘ کے پریم شنکرمار کسی نظریات کے حامل ہیں اپنے یہاں کام کرنے والوں کو نوکر نہیں بلکہ پارٹنر بنا کر رکھتے ہیں۔ تعلیم یافتہ اور دردمند دل کے حامل کردار کی ایک اور مثال کہانی ’دونوں طرف سے‘ کے پنڈت شیام سروپ ہیں۔ پنڈت جی پٹنہ کے ایک نو جوان وکیل ہیں جو اپنے کام سے فارغ ہو کر اپنا سارا وقت اچھوتوں کی فلاح کے لیے صرف کرتے ہیں۔ انھیں ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے کھانے پینے میں کوئی پرہیز نہیں ہے۔
پریم چند متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ طبقہ سب سے زیادہ ذہنی، معاشی اور مذہبی کشاکش کا شکار رہا ہے اپنی ریاکارانہ روش کے سبب یہ طبقہ ہمیشہ معاشی تنگدستی سے جو جھتا آیا ہے۔ مختصر آمدنی کے باوجود حد سے بڑھی ہوئی خواہشات اور دوسروں پر سبقت لے جانے کی ہوس میں اکثر اس طبقے کے افراد بدعنوانی میں ملوث ہوجاتے ہیں لیکن بسا اوقات اپنی اخلاقی اقدار کی حفاظت میں اسی طبقے کے افراد فرض اور ایمانداری کی سزابھی پاتے ہیں۔ پریم چند نے اس طبقے کے تمام سیاہ وسفید کو بے کم و کاست اپنی کہانیوں میں بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ’نیکی کی سزا‘ کہانی کے سردار شیو سنگھ ایک ایماندار ڈسٹرکٹ انجینئر ہیں۔ انھیں اپنی بیٹی کی شادی میں جہیز کے طور پر پانچ ہزار روپے دینے ہیں لیکن کوری تنخواہ پر گزر بسر کرنے والے شیو سنگھ کے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔ بیٹی کی محبت میں مجبور باپ رشوت لے کر اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہے لیکن ان کا ضمیر انھیں ایسا نہیں کرنے دیتا۔ چونکہ سردار صاحب خود ایماندار ہیں اس لیے ٹھیکیداروں اور اپنے ماتحت کام کرنے والوں کو ناراض کربیٹھتے ہیں اور سب مل کر ان کی شکایت اعلیٰ حکام سے کرتے ہیں۔نتیجتاً تنز لی کے ساتھ ان کا تبادلہ ہو جاتا ہے۔ ایمانداری کی سزا پانے والا ایک اور کردار’نمک کا داروغہ‘ کہانی کا بنسی دھر ہے۔ بنسی دھر ایک بارسوخ اور بڑے زمیندار کو غیر قانونی کاروبار کرنے کے جرم میں گرفتار کرلیتے ہیں۔ مجرم پنڈت الوپی دین انھیں ایک بڑی رقم رشوت کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن بنسی دھر اپنے ضمیر کا سودا کرنے کے بجائے انھیں عدالت تک لے جاتے ہیں۔ اپنے رسوخ اور پیسے کے بل پر الوپی دین صرف بری ہی نہیں ہو جاتے بلکہ بنسی دھرکو اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ پریم چند کے یہ کردار درحقیقت اس عہد کے معاشرے کے جیتے جاگتے انسان تھے جنھیں پریم چند نے کہانیوں کے قالب میں ڈھال کر بقائے دوام عطا کیا۔ اس مختصر سے مضمون میںہر طبقے کے کرداروں کا احاطہ کرنا ممکن نہیں لہٰذا ہم ان کے دیہی، نسوانی اور اچھوت کرداروں کے تجزیہ پر ہی اکتفا کریں گے۔
٭دیہی کردار : پریم چند کے دیہی کرداوں میں سب سے زیادہ اہمیت کسانوں اورمزدوروں کو حاصل ہے۔ ان کے ادب میں یہ طبقہ اپنی تمام ترخوبیوں و خامیوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتاہے۔ ایک طرف تو مفلسی کے باوجود ان افراد میں اخلاق کے اعلیٰ نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں وہیں دوسری طرف ذراسی فراوانی ہونے پر یہ تکبر سے پھول جاتے ہیں۔ ایک طرف دوسروں کے دکھ درد میں یہ لوگ حسب حیثیت برابر کے شریک ہوتے ہیں دوسری طرف چھوٹی چھوٹی باتوںپر جھگڑ کر یہ لوگ خود بھی تباہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔ انہیں مذہب میں اندھی عقیدت ہوتی ہے اور اکثر و بیشتر مذہبی عقائد اور تو ہم پرستی کے سبب بڑی بڑی پریشانیوں میں مبتلاہو جاتے ہیں۔ کسان کے لیے خودکو کسان کہلوانا ہی اس کی خوشیوں کی معراج ہے۔ وہ کسان بنا رہنے کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہے۔ پریم چند کی متعدد کہانیوں میں ایسے موڑ آتے ہیں کہ اگر کسان کھیتی چھوڑ کر مزدوری کرنے لگے تو اس کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں لیکن پریم چند کسانوں کی فطرت کے عین مطابق اپنے کرداروں کو زراعت چھوڑنے کے بجائے زندگی کے امتحان سے گزارتے ہیں۔ ان کا صرف ایک کردار ’پوس کی رات‘ کا ہلکو انتہائی مجبوری میں ذراعت سے دست بردار ہونے پر آمادہ نظر آتا ہے۔پریم چند کے یہ کردار پوری طور سے ناخواندہ ہیں اور جہالت کے زنداں میں قید ہیں۔ پریم چندکے تخلیق کردہ کسانوں میں والدین کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔
مذہب اور مذہبی رہنمائوں سے عقیدت کسانوں کا خاصہ ہے۔ ’سواسیر گیہوں‘ کہانی کا کسان شنکر ایک سادھو کو کھلانے کے لیے گائوں کے پروہت سے سوا سیر گیہوں ادھار لیتا ہے جس کے بدلے میں وہ کئی گنا کھلیانی کے نام سے پروہت کو واپس بھی کر دیتا ہے۔ لیکن سات سال بعد جب پروہت جی اس سے سواسیر گیہوں میں سودجوڑ کر ساڑھے پانچ من کا تقاضہ کرتے ہیں تو حیران ہوتا ہے لیکن یہ سوچ کر بہی میں نام رہے گا تو نرک میں جائوں گا واپس لوٹانے کا واعدہ کر لیتا ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں وہ تمام عمر پروہت کے کھیت میں ایک بندھوا مزدور کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کا لڑکا اس کی جگہ کام کرنے لگتا ہے۔ ایسا مذہب میں عقیدت اور جہالت کے سبب ہے اگر کوئی پڑھا لکھا سمجھدار آدمی ہوتا تو کہہ دیتا کہ میں تو ادا کر چکا ہوں اب نہ دوںگا تمھارا جو جی چاہے کرو۔ اسی طرح ’باباجی کا بھوگ‘ کہانی کا رام دھن ایک سادھو کے سوال کو ٹال نہیں پاتا۔ حالانکہ اس کے گھر میں خود فاقہ کی نوبت ہے لیکن پھر بھی وہ سادھو کے کھانے کے لیے آٹا،دال، چاول اور گھی کا انتظام قرض لے کر کرتا ہے اور خودبھوکا سوجاتا ہے۔
فقر میں ہمدردی اور غنا میں دشمنی کسانوں کی فطرت میں شامل ہے۔ پریم چند کے متعدد کرداروںمیں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے۔ ’راہ نجات‘کہانی کے کسان جھینگر کے کھیت میں بہت اچھی فصل ہوئی ہے وہ تکبر سے کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتا۔ اسی گائوں میں بدھو نامی ایک مرفع الحال گڈریا بھی رہتا ہے۔ چھوٹی سی بات میں دونوں میں تکرار ہو جاتی ہے اور بدھو جھینگرکے کھیتوں میں آگ لگا دیتا ہے۔ جھینگر اپنی تباہی کے بعد بدھو کی خوش حالی نہیں دیکھ پاتا اور اسے تباہ کر بدلہ لے لیتا ہے۔ پوری طرح سے تباہ ہونے کے بعد دونوں شہر میں مزدوری کرنے کو مجبور ہو تے ہیں اور یہاں وہ ایک دوسرے کے دوست اور ہمدرد بن جاتے ہیں۔ ایک اور کہانی ’بیر کا انت‘ کا جاگیشور اپنے چچا سے کھیت حاصل کرنے کے لیے مقدمہ بازی میں تباہ ہوجاتا ہے لیکن اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ چچا کی موت کے بعد اس کے بچوں کی پر ورش کا بار خود اٹھاتا ہے۔ ’اندھیر‘ کہانی میں دو ملحق موضع ساٹھے اور پاٹھے ہیں۔ دونوں گنگا کے کنارے ہونے کے سبب کسان خوش حال ہیں۔ لیکن اپنی خوش حالی سے فیض حاصل کرنے کے بجائے دونوں موضع کے لوگ مستقل دشمنی پر آمادہ رہتے ہیں۔
’قربانی‘ کہانی کا گردھاری موروثی کسان ہے۔ باپ کی موت کے بعد زمیندار کو نذرانہ ادا نہ کرپانے کی صورت میں کھیت گنوادیتا ہے۔ اس کے کھیت پر دوسرا آدمی کھیتی کرنے لگتا ہے۔ یہ بات گردھاری کے لیے باعث شرم ہے کہ وہ اب کسان نہ رہ کر مزدور بن گیا۔ مجبور ہو کر ایک دن جب اسے اپنے بیل بیچنے پڑتے ہیں تو وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پاتا اور خود کشی کر لیتا ہے۔ ایک اور کہانی ’تہذیب کا راز‘ کا دمڑی ایک غریب کسان ہے کنبہ بڑا ہونے کے سبب گزر بسر نہیں ہو پاتی اس لیے ایک مجسٹریٹ صاحب کے یہاں گھر یلوملازم کے طور پر کام کرتا ہے۔ بیلوں کو کھلانے کے لیے اکثر پریشان رہتا ہے۔ اور مجسٹریٹ صاحب کے بار بار کہنے پر بھی بیل نہیں بیچتا۔ اس کے گھر کے سارے افراد اگر کھیتی چھوڑ کر مزدوری یانوکری کریں تو موجودہ حالات سے زیادہ خوش حال رہ سکتے ہیں لیکن کسان کہلانے کی چاہ میں وہ کھیتوں سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں۔ بالآخر ایک دن بیلوں کے لیے چارہ کاٹتے ہوئے پکڑے جانے پر جیل چلا جاتا ہے۔ کسان کسان بنا رہنے کے لیے زمیندار کے مظالم بھی برداشت کر لیتا ہے ’بانکازمیندار‘ میں ٹھاکر پر دمن سنگھ کے باربار کسانوں کو کھیت اور گائوں سے بے دخل کرنے کے باوجود لوگ اسے آباد کرنے کو آمادہ نظر آتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ زمیندار ظالم ہے انہیں تو بس کسان کہلانا ہے خواہ کسی قیمت پر ہو۔
کسانوں کے متعلق زمینداروں کا خیال ہے کہ وہ جھوٹے اور نادہن ہوتے ہیں۔ جب تک ان کے ساتھ زبردستی نہ کی جائے وہ لگان یا دوسرے قرض ادا نہیں کرتے۔پریم چند اس بات سے متفق نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کسان ایسا کرتے بھی ہیں تو اس کی وجہ مکروبے ایمانی نہیں بلکہ احساس عدم تحفظ ہے۔ پریم چند کی کہانیوں کے کسان زمینداروں کے ظلم وستم سے اس قدر خائف ہیں کہ وہ کچھ نہ کچھ بچا کر برے وقتوں کے لیے رکھنا چاہتے ہیں اکثر زمینداروں کو لگان کی وصولی کے لیے ان کے ساتھ سختی برتنی پڑتی ہے لیکن جہاں زمینداوروں کی طرف سے ان کے ساتھ ہمدردی اورمحبت کا برتائوکیا جاتا ہے تو خود ہی تمام رقم بغیر تقاضہ کے لا کر حاضر کر دیتے ہیں۔ ’مشعل ہدایت‘ کے بابولال ایک چھوٹے زمیندار ہیں۔ وہ اسامیوں کے ساتھ برادرانہ تعلق رکھتے ہیں، ان کے دکھ درد میں برابرکے شریک ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں کسانوں سے لگان کا تقاضہ نہیں کرنا پڑتا، وہ خود ہی لاکر جمع کر دیتے ہیں ’پچھتاوا‘ کہانی میں زمیندار کے مختار عام پنڈت درگاناتھ ہیں وہ اپنے علاقے کے کسانوں کے ساتھ ہمدردی اور محبت سے پیش آتے ہیں لہٰذا ان کے کہنے پر تمام کسان زمیندار کی تمام بقایا رقم زیور و گھر کے دیگر سامان بیچ کر ادا کر دیتے ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ پر یم چند کے کسان محبت اور ہم دردی کے طلب گار ہیں اگر انہیں یہ حاصل ہو جائے تو اپنے آقا پر جان نثار کرنے کو تیار ہیں۔
پریم چند کی کہانیوں کے کسان اپنے والدین کے متعلق بہت جذباتی ہیں۔ زندگی میں تو وہ ان کے فرماں بردار ہیں ہی موت کے بعد بھی ان کے لیے کی جانے والی مذہبی رسومات میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ ’مکتی دھن‘ کا رحمن اپنی والدہ کی حج پر جانے کی فرمائش پوری کرنے کے لیے قرض حاصل کرتا ہے لیکن ماں کی حج کی خواہش کو نہیں ٹالتا۔ ابھی وہ حج کی خاطر لیے گئے قرض سے نجات بھی نہ حاصل کر سکا تھا کہ حج سے واپسی پر ماں بیمار پڑجاتی ہے۔ دوا علاج اور خدمت گزاری میں اپنا کھیت بھی نہیں دیکھ پاتا جس کے نتیجے میںفصل تباہ ہوجاتی ہے۔ اسی اثنا میںماں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا پس ازمرگ رسومات کی خاطر اسے ایک بار پھر زیر بار قرض ہونا پڑتا ہے۔ ’قربانی‘ کاگردھاری اپنے باپ ہر کھو کی موت کے بعد کی رسومات پر اپنی تمام جمع پونجی لگا دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اپنے کھیتوں سے ہاتھ دھوبیٹھتاہے۔ ’سبھاگی‘کے تلسی مہتوکا بیٹا رامو ناکارہ ثابت ہوتا ہے اور زندگی میں ہی وہ والدین سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے لیکن بیٹے کا فر ض ان کی بیٹی سبھاگی ادا کرتی ہے۔ زندگی میں تو والدین کو بیٹھا کر کھلاتی ہے ان کی موت کے بعد بھی ان کے کریا کرم پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتی ہے۔
٭اچھوت کردار : طبقاتی نظام معاشرت پر مبنی ہندوستانی سماج کا پسماندہ واچھوت طبقہ فروماندگی کے تحت الثریٰ تک جاپہنچاتھا۔ پریم چند پہلے مصنف ہیں جن کی نظر ان افراد پر پڑی اور انھوں نے اپنے ادب تک انہیں رسائی بخشی۔ ان کی متعددکہانیوں میں اس طبقے کے افراد نظر آتے ہیں۔ پریم چند کے یہ اچھوت کردار اپنے طبقے کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے نسبی طور پر پسماندہ کردار تعلیمی، تہذیبی، معاشی اور معاشرتی طور پر دوسرے افراد سے بہت پچھڑے ہوئے ہیں، جن میں بیشتر اپنی زبوںحالی کو اپنی تقدیر کا لکھا اور پچھلے جنم کے گناہوں کی سزا خیال کرتے ہیں۔ ان میں دوسروں کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی بھی ہمت نہیں ہے۔ ہاں خال خال ایسے کردار ضرور نظر آجاتے ہیں جن میں کسی حد تک بیداری کے آثار نمایاں ہیں۔ ’تحریک خیر‘ کے زمیندار ٹھا کر بیر سنگھ جب بوڑھی گونڈن بھنگی کو گائوں سے نکل جانے کو کہتے ہیں تو وہ جواب دیتی ہے:
’’کیوں نکل جائوں؟ بارہ سال کھیت جوتنے سے آسامی کا شتکار ہوجاتا ہے میں تو اسی جھوپنڑی میں بوڑھی ہوگئی۔ میرے ساس سسر اوران کے باپ دادا اسی جھونپڑی میں رہے۔ اب جم راج کو چھوڑ کر مجھے یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔‘‘۱؎
۱؎مدن گوپال مرتبہ کلیات پریم چند جلد دہم ص ۵۰۲
اسی طرح ’ٹھاکر کا کنواں‘ کی گنگی اپنے بیمارشوہر کے لیے ٹھاکر کے کنویں سے پانی بھرنا چاہتی ہے لیکن دل میں خوف زدہ ہے۔ وہ جانتی ہے کہ وہ ایک جرم عظیم کرنے جارہی ہے اگر کسی نے دیکھ لیا تو اس کی خیر نہیں۔ اس کے دل میں اعلیٰ ذات والوں کے خلاف ایک آتش فشاں سلگ اٹھتا ہے:
’’ہم کیوں نیچ ہیں۔ یہ لوگ کیوں اونچے ہیں؟ اس لیے کہ یہ لوگ گلے میں تاگا ڈال لیتے ہیں۔ یہاں تو جتنے ہیں ایک سے ایک چھنٹے ہیں۔ چوری یہ کریں، جال فریب یہ کریں، جھوٹے مقدمے یہ کریں، ابھی اس ٹھاکر نے تو اس دن بے چارے گڑریا کی ایک بھیڑ چرالی تھی اور بعد میں مار کر کھا گیا۔ انہی پنڈت جی کے گھر میں تو بارہوں ماس جوا ہوتا رہتا ہے۔ یہی ساہو جی تو گھی میں تیل ملا کر بیچتے ہیں۔ کام کراتے ہیں مزدوری دیتے نانی مرتی ہے۔ کس بات میں ہم سے اونچے ہیں۔‘‘۲؎
۲؎مدن گوپال مرتبہ کلیات پریم چند جلد سیزدہم ص ۷۳۔۵۷۲
اگرچہ کہیں کہیں ان کرداروں میں بیداری نظر آتی ہے لیکن پھر بھی عملی بغاوت کرنے کی قوت ان کرداروں میں مفقودہے۔ جیسا کہ خود گنگی کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ باوجوداپنے باغیانہ جذبات کے کسی کی آہٹ سن کرگھڑا اور رسی کنویں پر ہی چھوڑ کر بغیر پانی لیے ہی بھاگ جاتی ہے۔
گنگی کی ہی طرح پریم چند کے دوسرے اچھوت کردار بھی اعلیٰ ذات والوں کی ستم ظریفی کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ ’مندر‘ کی سکھیا اگر چہ رات کے اندھیرے میں مندر میں داخل ہوجاتی ہے لیکن دن میں لوگوں کی موجودگی میں یہ جسارت وہ بھی نہیں کرپاتی۔’نجات‘ کا دکھی چمار سارادن بھوکا پیاساپنڈت کی بیگار کرتے کرتے جان دے دیتا ہے لیکن برہمن دیو تا کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر پاتا۔ منو وادی طرز معاشرت کے زیر اثر یہ اچھوت ذہنی طور پر اس قدر پسماندہ ہیں کہ برہمنوں کے سکھائے گئے اصولوں کو حکم الٰہی تصور کرتے ہیں جیسا کہ ’نجات‘ کا دکھی چمار جب آگ مانگنے پنڈت کے گھر میں داخل ہوجاتاہے اورپنڈتائن گھر ناپاک کردینے پر اسے گالیاںدیتی ہے تو خودکو ہی قصوروار خیال کرتا ہے۔ اسی طرح ’گلی ڈنڈا‘ کا گیا اپنے بچپن کے دوست سے جب جوانی میں ملتاہے تو احساس کمتری کا شکار ہے۔ مثالیت پسند پریم چند کے بیشتر اچھوت کردار افلاس کی بدتر ین صورت حال میں بھی مذہب اور اخلاق کے پاسدار نظر آتے ہیں۔ اپنے تخلیقی سفر کے آخری مرحلے میں مثالیت پسندی کی بھول بھلیوں سے نکل کر پریم چند نے برہنہ حقیقت نگاری اختیار کرتے ہوئے گھیسو اور مادھو جیسے کردار خلق کرتے ہیں۔ ’کفن‘ کے گھیسو اور مادھو کا کفن کے پیسے سے شراب پی جانا در اصل پریم چند کی تخیّل کی ایجاد نہیں بلکہ اس سماجی ناہمواری کی پیداوار ہے جو زندگی میں تو تن ڈھاکنے کو ایک چادر نہیں دیتا لیکن موت کے بعد کفن کا اہتمام ضرور کرتا ہے۔
٭نسوانی کردار : پریم چند کے نسوانی کردار غالباً اردو افسانوی ادب کے سب سے اہم نسوانی کردار ہیں۔ پریم چند نے اپنے عہد کی خواتین کی حالت زار کو اپنے ادب میں جگہ دے کر انہیں تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ انھوں نے سماج کے ہر طبقے کی خواتین کو اپنی کہانیوں کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا۔ ان کے نسوانی کرداروں میں گائوں کی سیدھی سادی عورتیں، اچھوت، شہر کی متوسط طبقے کی خواتین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ، مغرب زدہ سبھی طرح کی خواتین شامل ہیں۔ پریم چند کی کہانیوں میں عورت ماں، بہن، بیوی، بیٹی محبوبہ اور طوائف سبھی صورتوں میں نظر آتی ہے۔ پریم چند عموماًعورت کو خلوص ووفا کا پیکر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ ماں بن کر اپنے بچوں کے لیے کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتی،بیوی بن کر شوہر کی اطاعت و فرمابرداری کو اپنا دھرم تصور کرتی ہے۔ محبوبہ کے طور پر اپنے محبوب کے تمام مظالم برداشت کرتی ہے۔ بیٹی کی حیثیت سے باپ کا احترام اور خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ پریم چند کے بیشتر خواتین کردار مردانہ بالا دستی والے سماج میں معاشرے کے بنائے گئے حصار میں قید نظر آتے ہیں۔ وہ تڑپ تڑپ کر جان تو دے دیتے ہیں لیکن سماجی قیدو بند سے آزاد نہیں ہو پاتے۔ ان میں کچھ خواتین تو ایسی ہیں جو اپنے اور پرڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی بھی ہمت نہیں رکھتیںلیکن ایسی خواتین بھی کثرت سے پائی جاتی ہیںجو’ تنگ آمد بہ جنگ آمد‘ کے مصداق سماجی نا انصافیوں کے خلاف اعلان جنگ کردیتی ہیں لیکن نتیجہ بیشتر ان کی ہار کی ہی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
پریم چند کے ادب میں مذکورہ قسم کی خواتین کی کثرت ہے جن پر آئندہ سطور میں روشنی ڈالی جائے گی، پہلے ذکران نسوانی کرداروں کا جو مردانہ بالا دستی سے مبرااور خود مختار ہیں۔ پریم چند نے ایسے متعدد نسوانی کردار وضع کیے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تمام سماجی قیدوبند سے آزاد ہیں۔ ’فریب‘ کہانی کے بیشتر کردار اسی ضمن میں آتے ہیں۔ اس کہانی کی مس خورشید تیس سالہ خوش شکل و خوش مزاج عورت ہیں جو ایک اسکول کی پرنسپل ہیں۔ وہ تمام سماجی و مذہبی قیود سے آزاد ہیں اور اب تک غیر شادی شدہ ہیں۔ آپ شادی کو ایک قید بے جا خیال کرتی ہیں۔ اسی کہانی کی مس لیلا ڈاکٹر ہیں اور مسز ٹنڈن ایک گرلس ہاسٹل کی انچارج ہیں۔ ان کے علاوہ مسز باگڑا اور مسز مہرا بھی تعلیم یافتہ خواتین ہیں یہ تمام خواتین جدید خیالات کی حامل اور سوشل بھی ہیں ’وشواس‘ کہانی کی مس جوشی کہنے کو ایک چھوٹے اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں لیکن شہر کے رئوسامیں ان کی مضبوط پکڑ ہے۔ ’مس پدما‘ کی پدما ایک نامور وکیل اور آزاد خیال عورت ہے جو بغیر شادی کے ایک مرد کے ساتھ تنہا رہتی ہے اور اس کے بچے کی ماں بھی بن جاتی ہے۔ ’ایکٹریس‘ کی مس تاراتھیٹر کی اداکارہ ہے جو تمام سماجی بندھنوں سے آزاد اور خود مختار ہے۔ مس جوشی، مس پدما اور مس تارا جیسی خواتین جومردوں کو محض ایک کھلونا تصور کرتی ہیں ان میںبھی زندگی کے کسی موڑ پر نسوانی فطرت بیدار ہوجاتی ہے۔ وہ بھی چاہتی ہیںکہ کوئی انہیں صدق دل سے محبت کرے انھیں بھی کسی مرد کی محافظت درکار ہے۔ گویا پریم چند کے یہ نسوانی کردار کتنے بھی مغرب پرست کیوں نہ ہوں نسوانی فطرت سے آزاد نہیں ہیں۔
پریم چند کے خواتین کرداروں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تعلیم یافتہ تو ہے لیکن ان کی فکر خالصتاً مشرقی ہے۔ پریم چند خواتین کی تعلیم اور خود مختاری کے حامی تھے لیکن ان کے مغربی طرز زندگی اختیار کرنے کو وہ سم قاتل سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں عورت کا اعلیٰ ترین مقام تعلیم کے ساتھ ساتھ مشرقی اقدار کی پاسداری ہے۔اگر اس قماش کے خواتین کرداروں کو پریم چند کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ ان کے پسندیدہ کردار ہیں۔ ان نسوانی کرداروں میں غیرت وحمیت اور خودداری کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ان میں اکثر ایسی خواتین ہیں جو جذبۂ حب الوطنی سے سر شار ہیں۔ ’آشیاں برباد‘ کی مِردلا اور چھماوطن کی آزادی کی خاطرجیل کی صعوبتیں بہ خوشی قبول کر لیتی ہیں۔ ’جلوس‘ کہانی کی مٹھن بائی اپنے داروغہ شوہر کو کانگریس کے جلوس پر لاٹھی برسانے کے لیے لعن طعن کرتی ہے اور بہ ذات خود جلوس میں شریک ہوجاتی ہے۔ ’شراب کی دوکان‘ کہانی کی مسزسکسیناکانگریس کی نشہ بندی تحریک میں گرم جوشی سے حصہ لیتی ہیں۔ ’قاتل کی ماں‘ کہانی کی رامیشوری بے گناہوں کی جان بچانے کے لیے عدالت میں اپنے بیٹے کے قاتل ہونے کی بات قبول کر لیتی ہے۔ ’ماں‘ کہانی کی کرونا اپنے بیٹے کو قومی والنٹیر بنا نا چاہتی ہے لیکن بیٹے کے تعلیم حاصل کرنے کی خاطر ولایت چلے جانے پر اس قدر دل برداشتہ ہوتی ہے کہ زندگی سے ہی رشتہ توڑ لیتی ہے۔
پریم چند عورتوں کو سماج میںبا عزت مقام دلانا چاہتے تھے۔ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف انھیں کمر بستہ کرنا چاہتے تھے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی کہانیوں میں ایسی خواتین سے قاری کو روشناس کرایا جن میں زندگی کے زیر وبم سے لڑنے کا حوصلہ ہے۔ ان کی کہانیوں کی تعلیم یافتہ خواتین میں توخود داری ہے ہی بیشتر ناخواندہ خواتین بھی عزت نفس کی پاسدار نظر آتی ہیں۔ یہ بات دیگر ہے کہ پریم چند کی حقیقت پسندی باوجود بغاوت کے زیادہ تر انھیں فتح سے ہم کنار نہیں کراتی۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ پریم چند عورتوں میں بیداری کی جو روح پھونکنا چاہتے تھے۔ وہ ان کے بیشتر نسوانی کرداروں میں نظر آتی ہے۔ ’سکون قلب‘ کی سنیتا اپنے شوہر کی بے راہ روی کو بہ سروچشم قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وہ ہندوستانی عورت کے طور پر سسرال کو ہی اپنا گھر سمجھتی ہے لیکن شوہر کی بے التفاتی کے بدلے خود بھی اس سے برگشتہ ہے۔ ’کسم‘ کہانی کی کسم کو اس کے شوہرنے بغیر کوئی وجہ بتائے باپ کے گھرپر چھوڑ رکھا ہے۔وہ اپنے شوہر کو کئی خط لکھتی ہے اس کے ہر خط سے شوہر پرستی صاف ظاہر ہوتی ہے لیکن جب اسے معلوم ہوتاہے کہ اس کے شوہر کو جہیزکے طور پر اس کے باپ سے ولایت جاکر تعلیم حاصل کرنے کے لیے روپیہ درکار ہے تو اسے شوہر سے نفرت ہو جاتی ہے۔ ’سہاگ کا جنازہ‘ کہانی کی سبھدرا کا شوہر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن چلا جاتا ہے کچھ دنوں کے بعد اس کے خطوط کا سلسلہ بند ہوجانے کے سبب شوہر کی محبت میں اس کی خبر گیری کے لیے سبھدرا لندن پہنچ جاتی ہے۔ وہاں جاکر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا شوہر دوسری عورت سے شادی کر رہا ہے۔ شادی کے بعد دونوں کی ملاقات ہو تی ہے لیکن وہ اس سے کسی طرح کی فریاد نہیں کرتی اور واپس ہندوستان چلی آتی ہے۔ ’وکرمہ دت کا تیغہ‘ کہانی کی ناخواندہ دیہی عورت برندا اپنی عزت پامال کیے جانے پر مہاراجا رنجیت سنگھ کے دربار تک پہنچ جاتی ہے اور ان سے خون انصاف طلب کرتی ہے۔ ’گھاس والی‘ کی چمارن ملیا اپنی عصمت کی حفاظت کے لیے گائوں کے ٹھاکر کو سخت وسست سنادیتی ہے لیکن اس کے ساتھ اپنی عزت کا سودا نہیں کرتی۔ پریم چند کا پورا ادب ایسی خواتین سے بھراپڑا ہے جو عصمت، خود داری اور عزت نفس کے لیے تحریک، تخویف و تحریص کسی بھی چیز کو خاطرمیں نہیں لاتیں۔
پریم چند کی کہانیوں میں ایک طبقہ ایسی خواتین کا بھی نظر آتاہے جن میں زمانے کی ستم ظریفی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی بھی ہمت نہیں۔ ان میں سے بیشتر خواتین اپنی زبوںحالی کو اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتی ہیں اور پھر یا تو کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کرتی ہیں یا تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دیتی ہیں۔ ’زادراہ‘‘ کہانی میں سیٹھ رام ناتھ کی بیوی سوشیلا ایک ہوش مند اور سمجھدار عورت ہے۔ شوہر کی موت کے بعد برادری والے مذہب اور رسوم کے نام پر اس کا گھر، زیور و تمام قیمتی سامان بکوادیتے ہیں اور وہ کچھ نہیں کر پاتی ’بدنصیب ماں‘ کی پھول متی شوہر کی موت کے بعد اپنے ہی بیٹوں کے ہاتھوں تباہ ہوتی ہے۔ اب تک وہ جس گھر میں حکومت کرتی آئی تھی اب وہیںاس کی حالت ایک نوکرانی سے بد تر ہو جاتی ہے۔ اس کی بیٹی کمدکو اس کے بھائی پیسہ بچانے کے لیے ایک بوڑھے سے بیاہ دیتے ہیں۔ لیکن کمد میں انکار کے لیے زبان تک کھولنے کی ہمت نہیں ہے۔ ’جنت کی دیوی‘ کہانی کی لیلا پر سسرال میں طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں حتیٰ کہ اسے اپنے بچوں کو بھی ڈانٹنے کا مجاز نہیں ہے پھر بھی وہ تمام ناانصافیاں خاموشی سے برداشت کرتی ہے۔ ’ نے راشیہ‘ کی نروپما کا قصور یہ ہے کہ اس نے کوئی بیٹا نہیں جنا۔ اس جرم کی پاداش میں سسرال اس کے لیے جہنم کا نمونہ بنا دیا جاتا ہے لیکن اس میں احتجاج کرنے کی سکت نہیں ہے۔ ’ابھاگن‘ کی مریادا کو اس کا شوہر گھر سے نکال دیتا ہے اور وہ دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ ’دھکار‘ کی تییم مانی کم سنی میں بیوہ ہوجاتی ہے۔ وہ چچا کے گھر رہنے پر مجبور ہے۔ اس پر اس کے چچا اور چچی اس قدر ستم ڈھاتے ہیں کہ وہ خود کشی کے لیے مجبور ہوجاتی ہے لیکن ان کے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا پاتی۔
طوائف اور ان کی اولاد کے مسائل پر پریم چند کی جو کہانیاں ملتی ہیں ان میں اس طبقے کے متعلق سماج میں جو حقارت ونفرت پائی جاتی ہے اس کے بر عکس ان کے تئیں محبت و ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ پریم چند ان کردار وں میں فطرت نسوانی کو عیاں کرتے ہیں۔ ان کے یہ کردار بھی عام خواتین کی طرح محبت اور وفا کے طلب گار ہیں۔ خواتین کو جب ہوس کے بھوکے شکاریوں کے بیچ کوئی سچاہمدرد نظر آتا ہے تو اس کے لیے وہ دولت و شہرت سے بے نیاز ہو جاتی ہیں۔ ’ویشیا‘ کہانی کی طوائف مادھوری دیا کرشن کی محبت میں اپنے تمام چاہنے والوں سے منھ پھیر کر اس کے ساتھ کسی نامعلوم مقام پرجانے کو تیار ہے۔ ’حسن وشباب‘ کی شردھا ایک طوائف کی بیٹی ہے لیکن اس میں ایک اعلیٰ خاندان کی عورت کے تمام اوصاف بہ درجۂ اتم موجود ہیں اسی طرح ’ مزار الفت‘ کی سلوچنا کی ماں ایک طوائف تھی لیکن سلوچنا کی پرورش ایک معزز خاندان میں ہوتی ہے اس میں ایک با وقار عورت کی تمام خوبیاں موجود ہیں ۔ ان تمام خواتین میں باعصمت مشرقی خواتین کا عکس نظر آتا ہے لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ ان پر کوئی کلی طور سے اعتبار نہیں کرتا، انھیں معاشرے میں عزت و احترام نہیں حاصل ہو پاتا۔
اس طرح کہاجاسکتا ہے کہ پریم چند نے سماج کے ہر طبقے مقام اور معاشرے کی خواتین کو اپنی کہانیوں میں جگہ دی۔ پریم چند کے یہ نسوانی کردار اگر مظلوم ہیں تو ظلم کے خلاف آواز اٹھا نے کی ہمت بھی ان میں ہے۔ ان میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی،محبوبہ، طوائف، سماجی وسیاسی کارکن سبھی طرح کی خواتین شامل ہیں۔
پریم چند کے متعلق کہا جاتاہے کہ ’’ان کے کردار فرد نہ ہو کر اپنے طبقے کے نمائندے ہوتے ہیں۔‘‘ مذکورہ قول میں کسی شک کی گنجائش نہیں لیکن ایک بات قابل غور ہے کہ کسی بھی طبقے کے سبھی افراد میں تمام خصوصیات ہو بہ ہونہیں ملتیں۔ کسی بھی طبقے کے سبھی افراد میں کچھ خصائص تو مشترکہ ہوتے ہیں لیکن متعدد خوبیاں منفرد ہوتی ہیں۔ ہر شخص کا اپنا مزاج اور سوچنے کا انداز اسے کچھ معاملات میں اپنے ہی طبقے کے دوسرے فرد سے الگ کردیتا ہے۔ادیب کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ ایک ہی طبقے کے مختلف کردار تخلیق کرتے ہوئے اس طبقے کی یکسانیت اورانفرادیت کو ملحوظ رکھے۔ پریم چند کا ادب اس یکسانیت میں انفرادیت کی بہترین مثال ہے۔ وہ ایک ہی طبقے کے مختلف کردار تخلیق کرتے ہوئے ہر کردار کی طبقاتی خصوصیات کے ساتھ اس کے انفرادی پہلوئوں کو بھی ابھارتے ہیں۔ پریم چند کا پورا ادب اس کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں