زخم بھرتے نہیں چھپانے سے (غزل)
زخم بھرتے نہیں چھپانے سے
درد مٹتے نہیں دبانے سے
آپ کا پیار ہے مری دنیا
کیا غرض ہے مجھے زمانے سے
جن کی فطرت میں بے وفائی ہو
کیا ملے ان کو آزمانے سے
میری قربت سے تھی جنھیں وحشت
مضمحل ہیں وہ دور جانے سے
جب کسی شے کو یاں ثبات نہیں
فائدہ کیا فریب کھانے سے
میرا ایمان ہے میری دولت
مجھ کو رغبت نہیں خزانے سے
لاکھ کوشش کرے کوئی شاماؔ
عشق چھپتا نہیں چھپانے سے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں