روح جب وجد میں آئے تو غزل ہوتی ہے (غزل)

 روح جب وجد میں آئے تو غزل ہوتی ہے

یا کوئی دل کو دُکھائے تو غزل ہوتی ہے


بھیگتی رات میں گزرے ہوئے لمحوں کا وجود

دل میں اک حشر اٹھائے تو غزل ہوتی ہے


کبھی محفل میں کبھی گوشۂ تنہائی میں

کوئی رہ رہ کے رلائے تو غزل ہوتی ہے


غمِ جاناں ہی پہ موقوف نہیں شعر و غزل

غمِ دوراں بھی ستائے تو غزل ہوتی ہے


وادئ عشق کی مدہوش فضا میں شامؔا

جھوم کر گیت کوئی گائے تو غزل ہوتی ہے

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

مقبول عام

مقدمہ شعر و شاعری : ایک تجزیہ

تنقید کی تعریف اور اہمیت

شمالی ہند میں اردو کا ارتقا